ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے اجلاس میں فیصلہ پرائیویٹ میڈیکل کورسس کی فیس میں 15فیصد اضافہ ہوگا

پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے اجلاس میں فیصلہ پرائیویٹ میڈیکل کورسس کی فیس میں 15فیصد اضافہ ہوگا

Mon, 25 Feb 2019 10:47:20    S.O. News Service

بنگلورو25؍فروری (ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے پوسٹ گریجویٹ اور ڈینٹل میڈیکل کورسس کی فیس میں سال 2019-20 کے لئے 15فیصد اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی وزیر برائے طبی تعلیم ای۔تکارام اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے سربراہوں کے ایک اجلاس میں فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سلسلہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کامیڈ۔کے، کے صدر ڈاکٹر ایم آر جئے رام نے بتایا کہ پوسٹ گریجوئٹ میڈیکل ایجوکیشن پر خرچ دوگنا ہوگیا ہے اور نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف) کے رہنما خطوط کے مطابق بہتر و معیاری طبی تعلیم، بہتر بنیادی سہولتوں کے ساتھ فراہم کرنا ہے اس لئے فیس میں اضافہ کا حکومت سے مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ چند ہی دنوں بعد پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے، فیس میں اضافہ کے سلسلہ میں الجھن پیدا نہ ہو اس لئے حکومت نے 2019-20 سال کے لئے 15فیصد اضافہ کی پیشکش کی، جسے قبول کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ نجی طبی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے کی جانب ایمانداری کے ساتھ توجہ دی جائے گی لیکن پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر عارضی طور پر مسئلہ حل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جئے رام نے بتایا کہ نجی طبی کالجوں میں پوسٹ گریجویٹ اور ڈینٹل میڈیکل کورسس کے داخلہ جات کی سرگرمیوں کو مارچ کے آخری ہفتہ سے شروع کر کے 31 مئی کے اندر پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ کالجوں میں سالانہ ایک پی جی میڈیکل کورس کے طالب علم کے لئے تقریباً 8.5لاکھ روپئے خرچ آرہا ہے اس لئے فیس میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بات چیت کے مطابق پوسٹ گریجوئٹ میڈیکل (سرکاری سیٹوں) کورسس کی فیس 5,06,000 سے بڑھ کر 5,81,900 روپئے ہوگئی۔ کامیڈ کے سیٹوں کی فیس 7,59,000 سے بڑھ کر 8,72,850 روپئے ہوگئی۔ اسی طرح پی جی ڈینٹل میڈیکل کورس (سرکاری سیٹوں) کی فیس 2,58,750سے بڑھ کر 2,97,562 ہوگئی اور کامیڈ کے سیٹوں کی فیس 4,04,800 سے بڑھ کر 4,65,520 روپئے ہوگئی۔ ڈاکٹر جئے رام نے ریاستی عوام سے گزارش کی کہ اس نئے فیس اسٹرکچر سے تعاون کریں۔


Share: